سود و زیاں

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نفع و نقصان، بُرا بھلا۔  دستورِ آرزو تو ہے سُود زِیاں سے پاک پھر بھی لگا ہے کھٹکا ہمیں احتساب کا      ( ١٩٨٦ء، غبار ماہ، ٩٥ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں دخیل دو اسما 'سُود' اور 'زیاں' کے درمیان 'و' بطور حرفِ عطف لگانے سے مرکب عطفی 'سود و زیاں' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر